چکبالاپور،4؍جنوری (ایس او نیوز) 30؍ کروڑ کی لاگت سے چکبالاپور-گوری بدنورقومی شاہراہ نمبر 234 کی ترقی اور تعمیر کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، جو اگلے پانچ چھ ماہ میں اس روڈ کا تعمیری کام مکمل ہوجائے گا۔ یہ بات ریاستی وزیربرائے ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر،میڈیکل ایجوکیشن و ضلع نگران کار وزیر ڈاکٹرکے سدھاکر نے کہی۔
انہوں نے یہاں نیشنل ہائی وئے اتھارٹی کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ اس سڑک کا معائنہ کرنے اور تمام رکے پڑے کاموں کا جائز ہ لینے کے بعد ضلع انتظامیہ بھون میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے افسروں اور ڈپٹی کمشنر کے ساتھ تبادلہ خیال کیااور نامہ نگاروں کو بتایا کہ 2015 میں اس قومی شاہراہ نمبر 234 کا تعمیری کام مدھوگیری تا ملباگل شروع کیا گیا تھا، مگر درمیان میں کئی وجوہات کی بناء پرگوری بدنور تا چکبالاپور اورشہر سے گذرنے والے 56 کلومیٹر اس روڈکا کام ٹھپ ہوچکا تھا،جسکی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ اس کام کا ٹینڈر لینے والے کنٹراکٹر کونقصان ہونے کی وجہ سے اس نے درمیان ہی میں تعمیری کام روک دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں عوام سے بہت شکایتیں ملنے پر پچھلے کئی دنوں سے ہائی وے اتھارٹی افسروں سے مسلسل بات چیت کے بعدانہوں نے خود اس روڈ کا معائنہ کرنے کیلئے طلب کیا اور افسروں کے ساتھ اس روڈ کا جائزہ لیا۔وزیر موصوف نے بتایاکہ اتھارٹی کے افسروں نے بھروسہ دلایا ہے کہ وہ جلد از جلد کام شروع کریں گے اور اگلے پانچ چھ ماہ میں کام مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جس کنٹراکٹر نے درمیان میں کام چھوڑ کر چلا گیا ہے، اس یوجنا کی بچت رقم13 ؍کروڑروپئے کے ساتھ مزید 17؍ کروڑ کی رقم نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اپنی جانب سے مہیا کرانے کا بھروسہ دیا ہے۔
ڈاکٹر سدھاکر نے بتایا کہ اس ریاست کااہم و مشہور سیاحتی مقام نندی ہلزکی نگرانی جو تین محکموں کی نگرانی میں تھا، مگر ہال ہی میں کابینہ میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ ا س نندی ہلز کی مکمل نگرانی کی ذمہ داری محکمہ ٹورزم کے سپرد کر دی جائے گی۔جس سے یہاں ترقی کرنے میں آسانی ہوسکے گی۔اس موقع پر ضلع پنچایت صدر چکا نرسمہیا،ڈپٹی کمشنر آر لتا،مینگو ڈیولپمنٹ اینڈ مارکیٹنگ بورڈ کے چیئرمین کے وی ناگراج، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیف انجینئر اجئے کمار، انجینئر ملیکارجنااورسدانند کے علاوہ دیگر افسرموجود رہے۔